"مگرمچھ"

عتيق صديقي

گزشتہ دنوں شہر ميں ايك افواه كا بڑا چرچا رہا, افواه يہ تهي كہ گزشتہ دنوں كراچي كا ايك خاندان "پكنك" منانے كلري (كينجھر) جھيل گيا. خاندان كے كچهـ افراد موٹر بوٹ ميں جھيل كي سير كر رہے تهے كہ اسي دوران ايك خاتون نے اپني گود ميں موجود ڈهائي سالہ بچي كو جھكا كر اس كا ہاتهـ پاني سے چھونا چاہا, بچي كا ہاتهـ پاني كي سطح سے اُوپر ہي تها كہ ايك مگرمچھ پاني سے سر نكال كر بچي پر حمله آور هوا اور پلك جهپكتے ہي بچي كا ہاتهـ كاٹ كر لے گيا. بچي اور ماں كي دلدوز چيخيں فضا ميں ابهريں, بچي تو اس تكليف كے باعث بے هوش هوگئي اور زخمي بچي كو سينے سے چمٹائے ماں پر سكتہ طاري هوگيا. كشتي ميں سوار لوگ اس اچانك ٹوٹ پڑنے والي مصيبة پر دم بخود تهے كہ ملاحوں نے چيخ كر انہيں ايك نئے خطرے سے خبردار كيا. بچي كا خون پاني ميں گرنے سے اس كي بو پر درجنوں مگرمچھوں نے كشتي كو گهير ليا, جو حصار بنائے ساتهـ ساتهـ تير رہے تهے اور ان كے عزائم جارحانہ نظر آ رہے تهے. ملاحوں نے لوگوں سے كہا كہ "انساني خون كي بو نے مگرمچھوں كو بےكل كرديا ہے اور اب يہ آساني سے پيچها چهوڑنے والے نہيں, يہ كشتي كو الٹ بهي سكتے ہيں ايسا هوا تو ہم سب مارے جائيں گے."

انہوں نے مصيبة اس سے نجاة پانے كيلئے ايك سنگدلانہ تجويز پيش كي كہ ان خونخوار عفريتوں سے بچنے كيلئے بچي كو پاني ميں پهينك ديا جائے. بقول ان كے زياده خون بہہ جانے كي وجہ سے بچي كا ساحل پر بعافية پہنچ جانے كے باوجود زنده بچنا ممكن نہيں ہے. اس لئے بہتر ہے كہ بچي كو پاني ميں پهينك ديا جائے. اس طرح مگرمچھ اس كي طرف متوجه هو جائيں گے اور ہميں نكلنے كا موقع مل جائے گا.

راوي كے مطابق ملاحوں كي اس تجويز پر موت سے خوفزده كچهـ لوگوں نے حامي بهر لي مگر ظاهر ہے كہ يہ بات بچي كي ماں كيلئے كسي طور پر قابل قبول نہ هو سكتي تهي. چناچہ اس نے بدنصيب بچي كو اور زور سے سينے سے بهينچ ليا, ہر ممكن مزاحمة كي مگر ملاحوں اور كشتي ميں سوار خود اس كے عزيزوں نے بچي كو زبردستي اس سے چهين كر جهيل ميں پهينك ديا, حسب توقع مگرمچھ بچي كي طرف متوجه هوگئے اور "شكار" كے حصول كيلئے ان ميں چهينا جهپٹي شروع هوگئي. ملاح موقع سے فائده اٹها كر كشتي كو ساحل كي طرف بهگا لے كئے اور بعافية كنارے تك پہنچ گئے.

يہ افواه كہاں سے چلي؟ كس نے پهيلائي؟ كچهـ معلوم نہيں, البته اسے تقوية بعض اخبارات (اسلام نہيں) ميں شائع هونے والي ايك اور خبر سے ملي جس كے مطابق ايك مقامي حاتون اور اس كي بچي جهيل كے كنارے كپڑے دهو رہي تهيں كہ اچانك ايك مگرمچھ نے ان پر حمله كرديا اور اور چشم زدن ميں بچي كو منہ ميں دبا كر لے گيا.

كراچي كے خاندان كے حوالے سے اڑنے والي اس افواه ميں خاندان كا تعلق گودهرا كيمپ نيو كراچي سے بتايا گيا تها. تاهم تفتيش كرنے پر معلوم هوا كہ اس علاقے ميں رہنے والے كسي خاندان كے ساتهـ كوئي ايسا سانحه پيش نہيں آيا ہے. علاقے كے سركرده افراد نے بتايا كہ يہ افواه ہم نے بهي سني اور اس كے بارے ميں تفتيش بهي كي ليكن گودهرا كيمپ تو كيا پورے شہر كے مختلف علاقوں ميں بسنے والے گودهرا برادري كے كسي خاندان كے ساتهـ كوئي ايسا سانحه پيش نہيں آيا. دوسرا واقعه ايك دو اخبارات ميں رپورٹ هوا تاهم پہلے واقعے كے افواه ثابت هونے پر شايد لوگوں نے اس كو زياده اهمية نہيں دي.

ماه جون كے آغاز پر كلري جهيل ميں كشتي الٹنے كا جو سانحه پيش آيا اور جس ميں 26 افراد لقمه اجل بن گئے, انتهائي افسوس ناك تها, تاهم اس واقعے نے كم از كم كلري جهيل ميں مگر مچوں كے وجود كي بات كو غلط ثابت كرديا. ممكن ہے كہ يہاں پيدا هو جانے والے مگرمچھوں كي تعداد زياده نہ هو كيونكہ جهيل ميں 30 سے زياده افراد كے گرنے اور كم از كم 26 افراد كي عرقابي كے بعد جن ميں سے متعدد نعشيں كئي كئي گهنٹے بعد اور بعض دوسرے روز نكالي جاسكيں اور ايك بچي دوسرے دن زنده برآمد كي گئي جو مچھلي كے جال ميں پهنسي هوئي تهي. نہ صرف يہ كہ بچي مگرمچھوں سے محفوظ رہي بلكہ تمام لاشيں بهي صحيح سلامة تهيں جو جهيل ميں مگرمچھوں كي موجودگي كي صورة ميں صحيح سلامة تو كيا شائد باقي ہي نہ رہتيں. لهذا مقام اطمنان ہے كہ كلري جهيل مگرمچھوں سے پاك ہے اور ان سے متعلق اڑائي جانے والي افواہيں صرف اور صرف افواہيں ہيں.

تاهم مگرمچھ موجود ہيں, جهيل ميں نہ سہي, حكومتي ايوانوں ميں...سركاري محكموں ميں..دفتروں ميں...خدمتي اداروں ميں حتى كہ ہسپتالوں ميں بهي...اور ان كي تعداد اور بهوك ہے كہ روزبروز بڑهتي ہي چلي جارہي ہے. كلري جهيل هميشه سے سندهـ اور خصوصاً كراچي كے عوام كا پسنديده تفريحي مقام رہا ہے, گزشته كئي برسوں كے دوران كراچي ميں تفريحي مقامات كے عنقا هوتے چلے جانے كے بعد تو كراچي كے لوگوں كي بہت بڑي تعداد ادهر ہي كا رخ كرتي ہے اور چهٹيوں كے دنوں ميں تو يہاں تل دهرنے كي جگہ نہيں رہتي, ان سياحوں سے مختلف محصولات كي صورة ميں كروڑوں روپے وصول كئے جاتے ہيں, ليكن ان كي سهولة اور حفاظة كيلئے كچهـ نہيں كيا جاتا, ايك جانب جهيل پر لائف گارڈ كا انتظام نہيں جس كے باعث كسي حادثے كي صورة ميں ڈوبتے لوگوں كو بچانے كيلئے ان كے لواحقين كو ملاحوں اور مقامي لوگوں كي خوشامديں كرني پڑتي ہيں اور لاشيں نكلوانے كيلئے معاوضه ادا كرنا پڑتا ہے, يہاں ابتدائي طبي امداد كي فراهمي تك كا كوئي انتظام موجود نہيں ہے اس لئے ہنگامي صورة ميں 38 كلوميٹر دور ٹهٹہ جانا پڑتا ہے, جہاں پہنچے پہنچے اكثر اوقات مريض اگلے جہاں پہنچ جاتا ہے اور اگر خوش قسمتي سے (شائد "بدنصيبي سے" كہنا زياده مناسب هوگا) كوئي پہنچ بهي جائے تو ابتدائي طبي امداد پہنچانے كا سامان تك يہاں پر ناپيد هوتا ہے. ڈاكٹروں اور نيم طبي عملے كي غير حاضري كي شكايات بهي عام ہيں. زخميوں اور نعشوں كو لانے لے جانے كيلئے ايمبولينسيں بهي ناپيد ہيں.

متذكره بالا سانحے كے راويوں كي يہ باتيں ميڈيا ميں آچكيں كہ جيتے جاگتے, ہنستے كهيلتے انسان, جن ميں عورتوں اور بچوں كي كافي تعداد تهي, ان كے سامنے ڈوب رہے تهے, مدد كيلئے پكار رہے تهے, ليكن كوئي نہيں تها جو ان كي مدد كرے, راويوں كے مطابق زندگي اور موت كا يہ تماشا ديكهنے والوں ميں بعض افراد ايسے بهي شامل تهے جو ان بدنصيبوں كي موت كے منہ ميں جانے كا نظاره تو اطمنان سے كرتے رہے, ليكن بعد ميں ڈوبنے والوں كي لاشيں نكال كر جيبيں گرم كرنے ميں سرگرم رہے. جبكہ دوسري جانب ٹهٹہ كے سول ہسپتال ميں بد انتظامي اپنے عروج پر تهي. متاثرين كيلئے طبي امداد كا كوئي سامان تها نہ نعشوں كو لانے كيلئے ايمبيولينس موجود تهي اور اس پر ڈاكٹروں اور متوقع عملے كا ناروا رويه مستزاد!!

خبر تهي كہ سانحے كے بعد جهيل كو تفريح كي غر سے جانے والوں كيلئے بند كرديا گيا ہے اور يہ كہ اب اسے مناسب حفاظتي انتظامات كے بعد ہي عوام كيلئے كهولا جائے گا مگر پچهلے دنوں ايك اور نوجوان جهيل ميں ڈوب كر مر گيا.

كوئي بڑا سانحه هوتا ہے تو حكومة اور انتظاميه كي جانب سے متاثرين كي اشك شوئي اور عوام كے غيظ وغضب كو ٹهنڈا كرنے كيلئے اس قسم كي باتيں اور دعوے كئے جاتے ہيں ليكن عملاً كچهـ نہيں هوتا. سانحه كلري جهيل كو دو ماه سے زياده عرصه گزرنے كو ہے ليكن حكومة اور انتظاميه نے جهيل اور سول ہسچتال ٹهٹہ ميں كيا كوئي نئے انتظامات كئے ہيں؟ لوگوں كي زندگياں بچانے كيلئے انہيں مناسب طبي سهوليات پہچانے كيلئے؟ تو اس كا جواب ہے صفر, صفر اور صفر!

خدانخواسته آئنده پهر كوئي ايسا سانحه هوگيا تو اسي طرح مگرمچھ كے آنسو بہائے جائيں گے كہ انہيں اسي ايك كام ميں مهارة حاصل ہے. ايك كلري جهيل ہي كيا ملك بهر ميں مگرمچهوں كے غول كے غول پيدا هوگئے ہيں, جن كي نظريں عوام كے خون اور خون پسينے كي كمائي دونوں پر گڑي هوئي ہيں اور ان كي تعداد اور بهوك ہے كہ دن بدن بڑهتي ہي چلي جارہي ہے.

[Daily Islaam][Archive]


[al Balagh][Islam.tc][Shia Fitnah][Hikaayaat ul Awliyaa][Sunnah][Shia-Sunni Dialogue][al Akhtar Trust][Pakistan Blood Bank][Shamsheer][Hadhrat Deobandi رحمه الله][Islaam][Islamic Economics][al-Haadi][Regarding Deobandi Ulama][Peshawar Nights][Maulana Deobandi Hafizahullah - Statement][Riyaadh ul Jannah][كيا ھم ناجائز صهيوني مملكة اسرائيل كو تسليم كرليں؟ ]

c