بسم الله الرحمن الرحيم
وصل اللهم وبارك وسلم علٰی عبدك ورسولك محمد وعلٰی اٰله وصحبه اجمعين

نظریاتی حصار کی حفاظت کیجئے!

محمد حسین چودھری

کسی بھی قوم کا مضبوط ترین دفاعی حصار اس کے نظریات ہوتے ہیں۔ نظریات کا حصار اگر مضبوط بنیادوں پر قائم ہو اور اس کی دیواروں کی مسلسل دیکھ بھال کی جاتی رہے تو قومیں اپنے دفاع کو موثر اور پائدار بنا سکتی ہیں۔ مگر نظریات کے معیار کو قائم اور مضبوط رکھنے کیلئے خود اس حصار کی دیکھ بھال کرتے رہنا بہت ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان کو بھارت سے علیحدہ مملکت دو قومی نظریے کی بنیاد پر بنایا گیا، کیونکہ مسلمانوں کا طرز زندگی ہندوؤں کے طرز زندگی سے قطعی طور پر مختلف ہے اور جمہوری نظام کے تحت ان دونوں قوموں کا اکھٹے رہنا کسی طور پر ممکن نہ تھا چنانچہ بانیان پاکستان نے دو قومی نظریے کی بنیاد پر مسلمانوں کیلئے علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا، اور اس کے حصول کیلئے دن رات ایک کر‌دیا۔

پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کی بنیاد پر ممکن ہوا جس میں یہ بات واضح تھی کہ مسلمانوں کا رہن سہن ہندوؤں سے علیحدہ ہونے کی وجہ سے یہ دونوں قومیں پر امن طور پر اکھٹے نہیں رہ سکتیں۔ چنانچہ پاکستان کے نام پر علیحدہ مملکت اس لئے بنائی گئی کہ یہاں كر اسلامی اصول لاگو ہونگے، اسلامی طرز زندگی اپنایا جائے گا اور اسلامی ثقافت کو فروغ دیا جائے گا۔ مگر پاکستان بننے کے فوراً بعد سے ہی یورپی ممالک کی ثقافت نے دھیرے دھیرے اس آزاد ملک میں اپنا اثر بڑھانا شروع کر‌دیا اور اسلامی نظریے کے حصار کو کمزور کرنا شروع کیا۔ مگر چونکہ ہندوؤں کے ساتھ اکھٹا رہنے کی تلخ یادیں مسلمانان پاکستان کے ذہنوں میں تازہ تھیں چنانچہ بھارت اور ہندوؤں کی مسلم دشمنی کو پاکستان میں ہمیشہ گہرائی سے دیکھا جاتا رہا۔ مگر حالیہ چند برسوں میں بالخصوص ستمبر ٢٠٠١‌ء کے بعد سے بین الاقوامی منظرنامے پر ہونے والی تبدیلیوں کی وجہ سے پاکستان پر دباؤ بڑھ جانے کے بعد سے ہماری حکومت نے اچانک بھارت کے ساتھ بھی دوستی کی پینگیں بڑھانا شروع کر‌دیں۔

امن قائم رکھنا اور جنگ کی از خود خواہش نہ کرنا تو ہمارے دین کا حصہ ہے مگر دین اور دنیا دونوں لحاظ سے امن قائم ہونے کیلئے اپنے نظریات کا سودا کر‌دینا کسی بھی صورت قابل تحسین نہیں۔ کسی مغربی مفکر کا قول ہے کہ «جنگ اور دشمنی کو ختم کر‌دینے کا تیز‌ترین اور یقینی راستہ شکست اپنا لینے کا ہے»۔ تو کیا ہماری موجودہ قیادت بھی بھارت سے ہر قیمت پر دشمنی ختم کر‌دینا چاہتی ہے، خواہ اس کیلئے شکست کی ذلت اٹھانا پڑے؟ اگر ایسا ہے تو بھی ہماری حکومت اور بھارت دونوں ہی کو مان لینا چاہئے کے بعض اوقات حکومتوں اور قوموں کے طرز فکر میں بہت تضاد پایا جاتا ہے اور پاکستان کی بھارت سے ہر قیمت پر دوستی کی حکومتی فکر پاکستانی قوم کو کسی بھی قیمت پر قبول نہیں ہے۔ بھارت اپنی چالیں بڑے شاطرانہ انداز میں چل رہا ہے مگر پاکستانی قوم کو اس کی عیاریوں سے اس قدر خطرات لاحق نہیں ہیں جتنا کہ خود اس کے اپنے حکمرانوں کی سادہ لوحی اس کیلئے خطرناک ہے۔

اسلام کے سنہرے اصولوں کو لاگو کرنے کیلئے حاصل کئے جانے والے ملک میں ہر طرح کی غیر مسلم تہذیب و‌ثقافت کو مکمل تحفظ اور سرپرستی فراہم کی جا‌رہی ہے، جبکہ اسلامی ثقافت بالخصوص جذبۂ جہاد کی بیخ کنی کیلئے دن رات حکومتی فکر و‌عمل بھی جاری ہے۔ ایک تازہ خبر کے مطابق لاہور میں مغلیہ شہنشاہ شاہجہاں کی نشانی شاہی حمام میں «شاہجہان ریسٹورنٹ» قائم کر‌دیا گیا ہے۔ جہاں پر کنیزیں کھانا پیش کریں گی۔ بھوک سے پریشان لوگوں کے ملک میں شاہجہان ریسٹورنٹ میں

اس خبر کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ «ریسٹورینٹ میں کنیزیں مغلیہ لباس زیب تن کریں گی اور مغلیہ دور کی یادیں تازہ کر‌دی جائیں گی»۔ مذکورہ خبر میں مغلیہ دور کی یادیں تازہ کرنے کی بات بھی کی گئی ہے جس سے ہمارے ذہنوں میں ١٨٥٧‌ء میں مغلیہ لباس زیب تن کئے ہوئے ریشمی کپڑوں سے ڈھکے تھال اٹھانے والی کنیزوں کی یاد بھی تازہ ہو‌جاتی ہے جو اس وقت کے شہنشاہ کے بیٹوں کے سر انگریز سرکار کے حکم پر شہنشاہ بہادر شاہ ظفر کو پیش کر‌رہی تھیں۔ مغلیہ سلطنت کے زوال میں دیگر کمزوریوں کے ساتھ طاؤس و‌رباب کا بھی بہت بڑا کردار تھا اور اب ہماری حکومت بھی مغرب اور بھارت کے زیر اثر طاؤس و‌رباب کی اس قدر سرپرستی کر‌رہی ہے کہ قوم کے گرد قائم نظریانی حصار کو بالکل معدوم کیا جا‌رہا ہے۔ اس قسم کی حکومتی سرپرستیوں کے پیچھے یہ سوچ کارفرما ہے کہ قوم کو بھارتی ثقافت سے بچانے کیلئے اپنی ثقافت کو بہت «خوشنما» بنا دیا جائے۔ مگر کیا اپنے کلچر کو اس قدر بدل ڈالنا اور دشمن ہی کے طرز پر چل نکلنا از خود اعتراف شکست نہیں ہوگا؟

٭…… ٭…… ٭

[منتخب مضامین روزنامہ اسلام][جمع شدہ مضامین][مقابل ہے آئینہ][مقابل ہے آئینہ - جمع شدہ مضامین]


بھارتی و‌مغربی ثقافت کے یلغار کے خلاف اسلامی ثقافت، جذبۂ جہاد اور دو قومی نظریہ کے بچاؤ کی ضرورت پر لکھا گیا محمد حسین چودھری صاحب کا یہ مضمون ٢٤ ذوالحجہ ١٤٢٤ هـ بمطابق ١٦ فروری ٢٠٠٤‌ء کو روزنامہ اسلام میں شائع ہوا۔

z