دینی مدارس پر ظلم بند کیا جاۓ

اے - کیو - شاد

ایک صرصے سے یہ خبر اخبارات کی زینت بنتی آرہی ہے کہ «دینی مدارس میں سرکاری نصاب تعلیم بھی لازم کردیا جاۓ گا». اس سلسلے میں اب بعض علماء کہلانے والے بھی «مرتا کیا نہ کرتا» کے مصداق بے دین سرکار کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گۓ ہیں کہ مدارس میں بہرحال عصری تعلیم شروع کردی جاۓ تاکہ مغربی اذہان کے ایجنڈے کو پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے اور اپنے دامن کو مغرب کے عطا کردہ ٹھیکرے نما ڈالرز سے بھرا جا سکے چاہے اس کیلۓ اپنی عاقبت برباد کرلیں. یہ انہی مدارس کے کمالات ہیں کہ آج تک پوری دنیا میں ہر سو دین اسلام کا بول بالا ہے اور یہ اپنی اصلی شکل میں محفوظ ہے. حتٰی کہ خود امریکا میں جتنی تیزی سے لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں، اتنی ہی تیزی سے پاکستان میں اسلام کے پھلنے پھولنے اور فروغ پانے پر قدغن لگائی جارہی ہے، گویا مدارس میں دینی تعلیم ہمارے حکمرانوں کو ہضم نہیں ہورہی، کیونکہ یہی تعلیم ہے جس کو حاصل کر کے آج پاکستان کے علماء دین اسمبلیوں تک پہنچے ہیں اور حکمرانوں کیلۓ اور خصوصاً امریکا کیلۓ سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوۓ ہیں. فی الحقيقة آج پاکستان کا وجود انہی درسگاہوں کی وجہ سے قائم ہے، تاریخ پر نظر ڈالی جاۓ تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ دینی مدارس سے تربیت حاصل کرنے والے افراد ہی نے ملک کی ترقی وخوشحالی، امن وآشتی اور اسلامی اقدار کیلۓ بیش بہا قربانیاں دی ہیں. آج اگر پاکستان میں یہ درسگاہیں اور اسلام کے مراکز نہ ہوتے تو پاکستان کا وجود ہی نہ ہوتا.

جہاں تک عصری تعلیم کا سوال ہے تو یہ ہمارے مدارس میں حسب ضرورت پہلے ہی سے جاری ہے، بلکہ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ دور جدید کے تقاضوں کے مطابق مدارس کی دینی تعلیم میں مزید کچھ اضافہ کیا جاۓ، اس سلسلے میں وفاق المدارس العربية کے جید علماء کرام مدارس کے نظم ونسق کی ترقی، نصاب اور نظام تعلیم کو عمدہ سے عمدہ تر بنانے کے لۓ شب وروز کوشاں رہے ہیں اور آئندہ بھی انشاء الله یہ جدوجہد جاری رہے گی.

حکمرانوں سے درخواست ہے کہ خدا کے لۓ «دینی مدارس کو نہ چھیڑیں» یہ مدارس جس طرح چل رہے ہیں ان کو اسی طرح رواں دواں رہنے دیا جاۓ، یہ مدارس ہمارے دین کے اصل ستون ہیں اور یہاں سے فارغ ہونے والے طلاب العلم دشمنان اسلام کے ناپاک عزائم کی راہ میں آہنی دیوار بنے ہوۓ ہیں. ہمارے حکمران آخر کب تک ان حقائق سے چشم پوشی کرتے رہیں گے؟ حالات حاضرہ کے تناظر میں اب یہ ضروری ہوگیا ہے کہ پاکستان کے تمام اسکولوں اور کالجوں میں پڑھنے والے مسلم بچوں کی دینی تعلیم کی فکر کی جاۓ کیونکہ یہاں عصری تعلیم تو ہے مگر دینی تعلیم بالکل نہ ہونے کے برابر ہے. نیز یہ کہ سرکاری تعلیمی اداروں میں دینی تعلیم کو لازمی قرار دیا جاۓ، تمام مستند اہل قلم اور اہل دین کی راۓ یہ ہے کہ دینی مدارس میں سرکاری نصاب کی بجاۓ سرکاری اسکولوں میں دینی تعلیم کو اس کا حقیقی مقام دیا جاۓ.

ایک نہایت افسوس ناک خبر یہ بھی ہے کہ «ایک طرف سے صحابہ کرام رضي الله تعالى عنهم أجمعين کے نام اور دوسری طرف سے جہاد سے متعلق آیات مبارکہ کو سرکاری نصاب سے نکالنے کی گھناؤنی سازش کی جارہی ہے». خدا نخواستہ اگر ایسا ہوا تو حکمرانوں کیلۓ جینا مشکل ہو جاۓ گا، ویسے بھی آج کل اسلام دشمن عناصر پورے ملک میں اپنے مذموم مقاصد کے لۓ سرگرم عمل ہیں. وہ نہیں چاہتے کہ پاکستان میں اسلام کو اور اہل حق کو مزید ترقی حاصل ہو، کیونکہ دنیا جانتی ہے کہ پاکستان اسلام کا قلعہ ہے اور یہاں کے مدارس سے فیضیاب ہونے والے طلبہ دراصل اسلام کے تحفظ کے ضامن ہیں.

حکمرانوں! خدارا ہوش کے ناخن لو! کہیں ایسا نہ ہو کہ دشمنان دین اپنا ہاتھ دکھا جائیں اور عوام ہاتھ ملتی رہ جاۓ اس سے پہلے کہ عوام کے غيض وغضب، ضبط کا مادہ اور قوتِ برداشت جواب دے جاۓ حکمران اپنا قبلہ درست کرلیں ورنہ ان کا نام بھی نشانِ عبرت بن جاۓ گا.

[روزنامہ اسلام][پچھلے شمارے][مقابل ہے آئینہ][مقابل ہے آئینہ - پچھلے شمارے]


This is an article in urdu, by A Q Shad, regarding the Musharraf government's attempts to interfere in making the syllabus of Islamic seminaries (Deeni Madaris) Maddressah alt. Madressah or Madersah

z