یہودیت کی دم اور مہاتیر کا پاؤں
رشید احمد مغل
ملائشیا کے وزیر اعظم ڈاکٹر مہاتیر محمد ٣١ اکتوبر ٢٠٠٣ء عین اس وقت وزارت عظمٰی سے سبکدوش ہوۓ ہیں جب وہ اندرون ملک وبیرون ملک شہرت کے بامِ عروج پر ہیں اور اس اعزاز کے ساتھ رخصت ہو رہے ہیں کہ وہ اب تک منتخب ہوتے آۓ ہیں اور یہ کہ اپنی خواہش سے رٹائر ہو رہے ہیں اور انہوں نے اپنے ملک کو ظاہری ترقی کے لخاظ سے مسلم دنیا کا "ٹائگر" ثابت کیا ہے۔
مہاتیر کی پیدائش ١٩٢٥ء کی ہے، وہ بہن بھائیوں میں دسویں نمبر پر ہیں، ان کے والد ایک اسکول ٹیچر تھے انہوں نے اولاد کو دینی حمیت واصول پسندی اور نظم وضبط کی تعلیم سے بہرہور کیا، جس کا ذکر مہاتیر محمد نے اپنی خودنوشت میں بہت فخر سے کیا ہے۔
مہاتیر محمد ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، مگر مسلسل محنت اور لگن سے انہوں نے اس مقام تک رسائی حاصل کی۔ انہوں نے اپنے ٢٢ (بائیس) سالہ دور حکومت میں ملک کو جہاں ترقی دی وہاں انہوں نے مغربی نظام معیشت وسیاست اور استعماری طاقتوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ہے، وہ امریکی طرز فکر کے ہمیشہ نقاد رہے ہیں، حال ہی میں انہوں نے دسویں اسلامی سربراہی کانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوۓ صاف اور کھری باتیں کی ہیں۔ انہوں نے اپنوں کو بھی جھنجوڑا ہے اور غیروں کی بھی خبر لی ہے، خاص طور پر صہیونیوں کے کالے کرتوتوں سے پردہ اٹھایا ہے اور اقوام علم کو متنبہ کیا ہے کہ دنیا کو تباہی کے دہانے کی طرف لے جانے والے صہیونی یہودی ہیں، یہ مختلف ملکوں کو ایک دوسرے کے خلاف جنگ کرنے پر اکساتے ہیں اور اس کے لۓ فنڈ دیتے ہیں، اس لحاظ سے دنیا پر یہی مٹھی بھر افراد اپنا حکم چلا رہے ہیں اور آج مسلم ممالک میں کوئی حقیقی طور پر آزاد نہیں، سب علمی جابروں کی خواہشات اور دباؤ پر چل رہے ہیں۔
مہاتیر کی اس کڑوی سچائی پر دنیا بھر کے یہودی اور ان کے ہمنوا سراپا اختجاج بن گۓ، گویا انہوں نے یہودیت کی دم پر پاؤں رکھ دیا، حتٰی کہ ملائشیائی سفراء کو یورپی دفاتر خارجہ میں بلا کر احتجاج کیا گیا لیکن مہاتیر خاموش نہیں اور مسلسل بول رہے ہیں۔ ٢٩ (انتیس) اکتوبر کو ان کا یہ بیان اخبارات میں شائع ہوا کہ دنیا والے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم کو دہشت گرد کہنے پر خاموش کیوں تھے، مجھے یورپی ممالک کی تنقید کی پرواہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم حکمران خوفزدہ ہیں ورنہ وہ میری حمایت کرتے۔
مہاتیر کے اس بیان پر بش نے اوپیک کے اجلاس میں مہاتیر سے علیحدگی میں احتجاج بھی کیا لیکن مہاتیر اب کھل کر بول رہے ہیں کیونکہ انہیں اب اقتدار کی فکر نہیں، انہوں نے امریکہ کی طرف سے ملنے والی اس امداد کو بھی ٹھکرا دیا جو صہیونیت کے خلاف نہ بولنے سے مشروط تھی۔
مہاتیر کی اس تقریر کے خلاف اٹھنے والے شور وغوغا پر ایک مغربی میگزین نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ؛ "آخر مہاتیر محمد نے ایسی کون سی بات کردی بات کہہ دی تھی کہ طوفان اٹھ کھڑا ہوا، اس نے غالباً یہودیوں کے کنٹرول کی بات کی ہے، آخر اس میں کون سی نئی بات ہے، کیا یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ ہے کہ امریکا کے اندر یہودی لابی اس حد تک طاقتور ہے کہ اس نے پورا سیاسی نظام اپنی دسترس میں لے رکھا ہے اور کیا یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ ہے کہ امریکا کی غیر معمولی پشت پناہی کے بغیر اسرائیل کا وجود باقی رہنا مشکل ہے، کیا اس میں بھی کوئی راز ہے کہ امریکا نے سلامتی کونسل میں اسرائیل کے خلاف ہر قرارداد ویٹو کی ہے یا رکن ممالک پر دباؤ ڈال کر متن میں تبدیلی لائی ہے۔ کیا یہ بھی کوئی راز ہے کہ دونوں ممالک کئی مشترکہ منصوبوں پر عمل پیرا ہیں یا امریکا میں درجنوں سیاستدان ایسے ہیں جنہیں یہودی لابی اور روپے کی بدولت میدان سیاست سے باہر کر دیا گیا ہے۔ کیا یہ امر کسی سے مخفی ہے کہ حکمران قدامت پسند (کنسرویٹو) طبقہ کے اندر یہودیوں کی قابل لحاظ تعداد پائی جاتی ہے اور اس راز سے کون واقف نہیں کہ عراق میں امریکا کو یہودی لے کر آۓ ہیں۔ مشرق وسط کو اپنے غزائم کے تحت تبدیل کرنے کا منصوبہ ستمبر ٢٠٠١ سے پہلے ١٩٩٥ میں تیار کیا گیا تھا... یہودی لابی چند برس کے اندر ایسے امریکی سیاستدان کو ملیامیٹ کر کے رکھ دیتی ہے جو اسرائیل کی غیر مشروط حمایت نہیں کرتا۔ یہ کام خفیہ طور پر نہیں ہوتا بلکہ ایسے لوگوں کو سرعام سیاسی موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا ہے، مغربی دنیا کیلۓ بہتر یہی ہوگا کہ وہ ملبے کا ڈھیر مہاتیر محمد پر پھینکنے میں عافیت تلاش نہ کرے بلکہ حقائق تک رسائی کی کوشش کرے۔"
٧٨ (اٹہتر) سالہ مہاتیر اب یہودیوں کو آئنہ دکھا رہا ہے، اسے اب نہ حکومت جانے کا ڈر ہے اور نہ جان کے جانے کا۔ مسلم حکمرانوں کو مہاتیر کی ان باتوں کو اور ان کے قوم وملک کی بہتری کیلۓ کۓ گۓ اقدامات کو مشعل راہ بنانا چاہۓ۔
*...*...*
بعض
متعلقہ مضامین؛
اسرائیل سے ہماری کيا دشمنی ہے - حضرت مولانا عبد الغفور ندیم مد
ظله العالی
Anti-semitism, Zionism and the Palestinians - Noam Chomsky
What
is Antisemitism? - Michael Neumann
Israel's anti-Semitism -
Ibrahim Nafie
Anti-Semetism - EDWARD HERMAN
[روزنامہ اسلام (Unofficial)][پچھلے شمارے][مقابل ہے آئینہ][مقابل ہے آئینہ - پچھلے شمارے]
Download Urdu Enabled Tahoma Font
In case you cannot see urdu text properly save the font on your hard disk
shut down this window delete your old tahoma font and place the new tahoma font
in the fonts directory - requires Internet Explorer version 5+
روزنامہ اسلام
Daily Islaam – Official Website